(گناہ کی حقیقت)


IMG-20210508-WA0004.jpg
Source

(گناہ کی حقیقت)

گناہ کا آغاز مکڑی کے جالے کی طرح کمزور ہوتا ہے، اور انجام بحری جہاز کے لنگر کی طرح مضبوط ہوتا ہے۔

یعنی شروع میں انسان سوچتا ہے کہ ایک دوبار گناہ کر کے پھر چھوڑ دوں گا مگر آج اور کل کرتے کرتے گناہ کی عادت اتنی پختہ ہو جاتی ہے، جسے بعد میں چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔

گناہ آکاش بیل کی طرح ہوتا ہے جو انسان کو اپنے گھیرے میں لے لیا کرتا ہے۔

آپ نے چلتے پھرتے بعض درختوں پر پیلی سے بیل دیکھی ہوگی، وہ پورے درخت کو اس طرح اپنے قابو میں لے لیتی ہے کہ درخت کی نشو و نما رُک جاتی ہے۔

اسی طرح گناہ کرتے کرتے انسان کی روحانی نشو و نما رُک جاتی ہے۔

گناہ کی مثال ناسور کی مانند ہے، ناسور اگر رہے تو تکلیف دیتا ہے اور اگر علاج نہ کریں تو وہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ ایک عجیب بات لکھتے ہیں کہ، اے دوست! گناہ کرتے ہوئے یہ نہ دیکھ کہ چھوٹا ہے یا بڑا ہے، بلکہ اس پروردگار کی عظمت کو دیکھ کہ جس کی نافرمانی کر رہا ہے۔

گناہ انسان کے روحانی لباس پر دھبّے کی مانند ہوتا ہے، جیسے انسان کو ظاہر کے لباس پر داغ اچھا نہیں لگتا اسی طرح اللہ تعالیٰ کو روحانی لباس داغدار اچھا نہیں لگتا۔

جزاک اللّہ۔


Comments 0