میرا نام ماہ نوررؤف ہے میری آج کی ڈائری


اللّہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان اور نہایت
رحم کرنے والا ہے سب اسی کی عبادت کرتےہیںسب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب اور پالنے والا ہے، جزا کے دن (یعنی قیامت ) کا مالک ہے ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ ... اپنے اس رب کی عبادت کرو جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے تو تم اسی کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز کا کار ساز ہے۔ میری آج کی ڈائری ہے والدين کی کچھ فرائض ور حقوق ۔

                  والدين  کی حقوق

والدین انسان کے وجود کا ذریعہ ہیں، بچپن میں انھوں نے ہی اس کی دیکھ بھال اور پرورش کی ہے۔ اﷲتعالیٰ نے اپنی توحید کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ والدین میں ماں کا درجہ باپ پر مقدم ہے؛ کیونکہ پیدائش میں ماں نے زیادہ تکلیفیں برداشت کی ہے ۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے والدین کی خدمت کرنے کو جہاد سے افضل قرار دیا۔ ۔سب سے مقدم حق والدین کا ہے ۔ اور یہ اتنا اہم حق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حق ِعبادت کے بعد جس حق ذکر کیا ہے وہ والدین کا حق ہے ۔والدین کا حق یہ کہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے ان کا مکمل ادب واحترم کیا جائے ،نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ان کی اطاعت وفرنبرداری کی جائے اور ہمیشہ ان کے سامنے سرتسلیم خم کیا جائے ۔ قرآن وحدیث سے یہ بات بہت واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ والدین سے حسنِ سلوک سے رزق میں فراوانی اور عمر میں زیادتی ہوتی ہے ۔ جب کہ والدین کی نافرمانی کرنے والا او ران کے ساتھ حسن سلوک سے پیش نہ آنے والا اللہ کی رحمت سے دور ہوجاتا ہے اور بالآخر جہنم کا ایندھن بن جاتاہے ۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت واطاعت کے ساتھ ،والدین سے حسن سلوک نہ کرنے والے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور یہ ناراضگی اس کی دنیا اور آخرت دونوں برباد کردیتی ہے ۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہم والدین کے حقوق کا پورا پورا خیال رکھیں ۔اس معاملے میں قرآن وسنت سے ہمیں جو رہنمائی ملتی ہے اس کی روشنی میں اپنے رویوں کودرست اور کردار کی تعمیر کریں۔ اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’’اف‘‘ بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کروo اور ان دونوں کے لئے نرم دلی سے عجزو انکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اﷲ کے حضور) عرض کرتے رہو اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا

IMG_20211105_175529.jpg

    والدین سے حسن سلوک کا حکم۔           

اللہ رب العزت نے انسانوں کو مختلف رشتوں میں پرویا ہے ،ان میں کسی کو باپ بنایا ہے تو کسی کو ماں کا درجہ دیا ہے اور کسی کوبیٹا بنایا ہے تو کسی کو بیٹی کی پاکیزہ نسبت عطا کی ہے؛ غرض ر شتے بناکر اللہ تعالی نے ان کے حقوق مقر ر فرمادیے ہیں ، ان حقوق میں سے ہر ایک کا ادا کر نا ضروری ہے ، لیکن والد ین کے حق کو اللہ رب العزت نے قرآنِ کریم میں اپنی بندگی اورا طا عت کے فوراً بعد ذکر فرمایا ، یہ اس بات کی طرف اشا رہ ہے کہ رشتوں میں سب سے بڑا حق والدین کا ہے ۔ اللہ تعالی نے خاص طور سے والدین کے پڑھاپے کو ذکر فر ما کر ارشاد فر ما یا کہ اگر ان میں کوئی ایک، یا دونوں تیری ز ند گی میں پڑھا پے کو پہنچ جا ئیں تو ان کو ”اف “بھی مت کہنا اور نہ ان سے جھڑک کر با ت کر نا ۔ حضرت تھا نوی رحمہ اللہ نے بیا ن القرآن میں ”اف “ کا تر جمہ ”ہوں “ سے کیا ہے کہ اگر ان کی کوئی بات نا گوار گزرے تو ان کو جواب میں ”ہوں “بھی مت کہنا ۔ اللہ رب العزت نے بڑھا پے کی حالت کو خا ص طور سے اس لیے ذکر فر ما یا کہ والدین کی جوا نی میں تو اولاد کو نہ” ہوں“ کہنے کی ہمت ہوتی اور نہ ہی جھڑکنے کی، جوانی میں بدتمیزی اور گستاخی کا اندیشہ کم ہو تا ہے؛ البتہ بڑھاپے میں والدین جب ضعیف ہوجاتے ہیں اور اولاد کے محتاج ہوتے ہیں تو اس وقت اس کا زیا دہ اندیشہ رہتا ہے ۔،پھر بڑھا پے میں عا م طور سے ضعف کی وجہ سے مزاج میں چڑچڑا پن اور جھنجھلاہٹ پیدا ہوتی ہے، بعض دفعہ معمولی باتوں پر بھی والدین اولاد پر غصہ کر تے ہیں، تو اب یہ اولاد کے امتحان کا وقت ہے کہ وہ اس کو برداشت کر کے حسنِ سلوک کا مظاہرہ کر تے ہیں، یا نا ک بھوں چڑھا کر بات کا جواب دیتے ہیں، اس موقع کے لیے اللہ تعالی نے یہ حکم دیا ہے کہ جواب دینا اور جھڑک کر با ت کر نا تو دور کی با ت ہے، ان کو” اف“ بھی مت کہنا اور ان کی بات پر معمولی سی ناگواری کا اظہا ر بھی مت کر نا 

IMG_20211105_175644.jpg

     والدین کا مقام اور احترام

اللہ تعالیٰ نے کائنات میں افضل اور اشرف مخلوق انسان کو بنایا ہے۔ والدین درحقیقت انسان کے دنیا میں آنے کا ذریعہ ہوتے ہیں،ہمارا وجود والدین کی وجہ سے ہوتا ہے ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے بھی والدین کے ساتھ حُسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی تلقین کی ہے۔محبت کا جذبہ فطری طور پر بدرجہ اتم والدین کو عطا کیا گیا ہے۔اولاد کے لئے والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں،والدین کی جس قدر عزت و توقیر کی جائے گی اسی قدر اولاد سعادت سے سرفراز ہوگی شریعت میں والدین کے ساتھ حُسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔

IMG_20211105_201046.jpg

قرآن و حدیث کی روشنی والدين کی عطاعت

 بندوں میں سب سے مقدم حق، والدین کا ہے۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کی کتاب و سنت میں بہت زیادہ تاکید آئی ہے۔یہی والدین  در حقیقت انسان کے دنیا میں آنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ انسان کا وجود والدین کے مرہون منت ہوتا ہے، اسی لیے اللہ تعالٰی نے بھی کئی مقامات پر والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے حقوق کے ادائیگی کی تلقین کی ہے۔ نیز جہاں شرک سے اجتناب کی تعلیم دی تو وہیں ساتھ میں والدین کے ساتھ صحیح روش اپنانے کی ترغیب دی۔ اسی طرح محمد و آل محمد(علیھم السلام) کے فرامین   بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دے رہے ہیں، جس طرح والدین نے بچپن میں بچے پر رحم کیا، اس کی ضروریات کا لحاظ کیا، اس کے درد کو اپنا درد سمجھا، اس کی ضرورت کو اپنی ضرورت خیال کیا، اس کی تکلیف کے دفعیہ میں حتٰی الامکان سعی کی، اس طرح بڑھاپے میں بچوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ والدین کو نعمت سمجھیں، ان کی خدمت اپنے لئے اعزاز قرار دیں، اپنے گھر میں  ان کا قیام اپنے لیے رحمت تصور کریں۔

 افسوس ناک صورت حال یہ ہے  کہ موجودہ دورمیں معاشرہ انتشار اور افراتفری کا شکار ہے اور مسلمان اپنی روایات اور اسلامی تعلیمات سے دور ہوتے جارہے ہیں اور آئے روز والدین کے ساتھ بدسلوکی، تشدد اور قتل جیسے گھناؤنے جرم کا ارتکاب ایک معمول بن چکاہے۔ اسی لئے اس تحقیق میں کوشش کی گئي ہے کہ والدین کی اطاعت سے متعلق احکام خداوندی  اور معصومین (علیھم السلام) کے فرمودات ، والدین کی اطاعت کے دنیوی و اخروی فوائد،والدین کی نافرمانی کے دنیوی اور اخروی  نقصانات اولاد کے فرائض   اس کے علاوہ والدین کے حقوق سے متعلق چند فقہی مسائل وغیرہ  کو بیان کیا جائے تاکہ معاشرے میں والدین کے مقام کو  کما فی السابق آئندہ نسل کے لئے زندہ اور پایندہ رکھا جائے۔

IMG_20211105_201353.jpg

والد جنت کا بہترین دروازہ ہے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !​
والد جنت (میں داخلے) کا سب سے بہترین دروازہ ہے اب تم اس دروازے کو (نا فرمانی اور برے سلوک کے ذریعے ) ضائع کر لو یا (اطاعت و فرمانبرداری کے ذریعے) اس کو محفوظ کر لو ،،​

اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کی سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا ، اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں برھاپے کو پہچ جائیں تو ان کی آگے اف (Uff) تک نہ کہنا ، نہ نہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کی ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا اور عاجزی اور محبت کی ساتھ ان کی سامنے تواضح کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پرورد گار !

ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے ،،

IMG_20211106_120232.jpg

            ماں دنیا کی عظیم ہستی ہے     
  ماں وہ عظیم ہستی ہے جس کے بنا گھر ایک قبرستان کی مانند ہے چاہے وہ گھر شیش محل ہی کیوں نہ ہو۔ ہر ماں اپنی اولاد کی کامیابی چاہتی ہے بلکہ ہمیشہ یہ تمنا رہتی ہے کہ اس کا بیٹا بادشاہوں جیسی زندگی گزارے۔ اگر خدانخواستہ اولاد کی وجہ سے ماں کے دل کو صدمہ پہنچتا ہے تو وہ اولاد کبھی بھی کامیاب نہیں رہتی۔ ایسے انسان کا معاشرے میں بھی کوئی مقام نہیں رہتا۔اس حالت میں اپنا مقام پانے کے لیے ماں کو منانے کے سوا کوئی حل نہیں۔اس کی کامیابی کا راز ماں کی دعاؤں میں ہے ،ویرانوں میں بھٹکی ہوئی اولاد کے لیے ماں کی دعائیں کامیابی کی کرن ثابت ہوتی ہیں۔

   ماں نے ہی تمہیں اپنے پیٹ میں حفاظت کے ساتھ اٹھائے رکھا،  اپنے سینے سے تمہیں دودھ پلایا، اس لیے ماں کی محبت لازمی  چیز ہے، اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں، بلکہ فطرت بھی اسی کی متقاضی ہے، اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ بچوں کی ماں سے اور ماؤں کی بچوں سے محبت  تو جانوروں اور چوپاؤں میں بھی اللہ تعالی نے فطری طور پر رکھی ہے، اس لیے انسان میں ان سے بھی زیادہ ہونی چاہیے جبکہ مسلمان میں انسانوں سے بھی زیادہ ہونی چاہے۔

اگر ماں کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو والدہ کا مکمل خیال رکھا جائے، بلکہ یہ تو اولاد کے ذمہ قرض ہے؛ کیونکہ جب اولاد چھوٹی تھی تو ماں نے ہی اس کی ہر چیز کا خیال رکھا تھا، ماں ہی بچوں کی وجہ سے تکالیف جھیلا کرتی تھی اور راتوں کو جاگتی تھی۔والدہ کو ایسی کوئی بات نہ کہیں جسے سن کر انہیں تکلیف ہو یا کوئی اقدام ایسا نہ کریں جسے وہ ناگوار سمجھیں۔

IMG_20211105_203212.jpg

یا اللّه ہر اولاد پر ان کے ماں باپ کا سایہ سلامت رکھنا امین ۔
امید ہے آپ سبکو میری آج کی ڈائری پسندآۓ گی ۔جزاك الله


Comments 5


Apny bhot achi dairy likhi hy

06.11.2021 14:55
0

آپ نے بہت زبردست آ رٹیکل لکھا ہے اور میری اللہ پاک سے دعا ہے
کہ ہمیں ماں باپ کا فرمانبردار بنائے

06.11.2021 17:16
0

Congratulations...!!! Your Post Selected Got Upvote %
By: Urdu Community


Join Discord Group Urdu-Community
Join Whatapps Group :Urdu Community
Join our Facebook Group Facebook Urdu community


image.png
Subscribe URDU COMMUNITY

[Quick Delegation Links]()

50SP
100SP
150SP
200SP
500SP
1000SP
1500SP
2000SP


image.png

Subscribe URDU COMMUNITY
Our mission to promote Steemit in Urdu Community to all over the world
Stay together
Join the Urdu Community with more confidence.
Steem On


08.11.2021 05:26
0