موبائل فون نے تو ننھے بچوں کو بھی اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے


اسلام وعلیکم سٹیمینس کیسے ہیں آپ لوگ امید_
کرتا ہوں آپ سب لوگ ٹھیک ہوں گے اور سب اپنے کاموں میں مصروف ہوں گے۔

001.jpg

آج ہم اگر واپس ماضی کی جانب چلنا شروع کریں اور تہتر برس پیچھے جا کر دَم لیں تو دیکھیں گے کہ اْس زمانے میں ہرسْو سادگی کا ہی راج تھا، موجودہ دورَ کی مانند ترقی کے نام کا کوئی شور و غوغا بھی نہیں تھا، بڑوں کی تفریح کیلئے اِکا دْکا سینما گھر ضرور موجود تھے مگر بچوں کو فلم دیکھنا تو در کنار، اْس سمت جانے کی بھی سخت ممانعت تھی کہ مَبادا اْن کی نظریں ویاں کے بڑے بڑے پوسٹروں پرآویزاں آداکاراؤں کی تصویروں پر نہ جم جائیں۔ مزید برآں صرف آسودہ حال لوگوں کے ہاں ہی ریڈیو سیٹ ہوا کرتے تھے جہاں عام افراد مل بیٹھ کر کرکٹ میچوں کی کمنٹری اور دوسرے تفریحی پروگراموں سے محظوظ ہوتے۔ پھر عام زندگی میں جب ٹیلیویژن نے اپنا جلوہ دکھایا تو ہر گھر میں ایک ہلچل سی مچ گئی، اب کافی حد تک لوگوں کو سینما گھروں میں جانے کی کوفت سے بھی چھٹکارا مل گیا اور بچوں بڑوں سب کو کارٹون اور فلمیں وغیرہ دیکھنے کا گھر پر ہی بندوبست ہو جانے سے رفتہ رفتہ ریڈیو کی ایسی شکست و ریخت شروع ہوئی کہ مرمت کرنے والے کاریگروں کی دکانوں پر انبار لگ گئے، اِس دوران ٹیپ رکارڈر اور وی سی آر جیسی بہت سی ایجادات بھی منظرِعام پر آئیں مگر موبائل فون کی دریافت نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا، پھر انٹرنیٹ نے سونے پہ سْہا گا کا کام کیا تو ہر چھوٹے بڑے اور بلا امتیاز امیر و غریب سب کے ہاتھوں یا جیب میں اپنا انفرادی فون سیٹ آ گیا جو بلا شْبہ بہت ساری خوبیوں کا حامل ہے، اِس کا سب سے بڑا جانا مانا فائدہ تو یہ ہے کہ آدمی چاہے سینکڑوں میل دوْر ملک کے کسی بھی کونے میں چلا جائے اْس کا پیچھے گھر والوں سے رابطہ جْڑا رہتا ہے، یوں اپنی جَنم بْھومی سے دْور دراز علاقوں میں کاروبار سرانجام دینے اور ملازمت کرنے والے افراد دْور بیٹھے موبائل فون کے ذریعے اپنے گھر بار کی خیرخیریت سے بخوبی آگاہ رہتے ہیں، علاوہ اَزیں اِس کے مثبت استعمال نے انسانی زندگی کی کئی دشواریوں کا خا تمہ کرکے آسانیوں کو مزید بڑھا دیا ہے، مگر وقت گزْرنے کے ساتھ ساتھ اِس کی کچھ خامیاں اور خرابیاں بھی ظاہر ہونے لگیں جس کے مْضر اثرات نوجواں نسل خصوصاً طالب علموں پر پڑنے سے اْن کا تعلیمی رزلٹ انحطاط کا شکار ہوا جو والدین کے لئے لمحہ فکریہ ہے، دوسری سمت بچوں نے موبائل فون کو بڑی سْرعت سے پِک کیا اور جلد ہی اِسے اپریٹ کرنے میں ماہر ہو گئے، یہاں اِس حیران کْن اَمر کو زیرِ تحریر لانا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ دو ڈھائی سال کے ننھے منے بچے تو موبائل فون پر اِس قدر فریفتہ ہیں کہ وہ اِسے اپنے ہاتھ میں تھامے بنا کھانے کا نوالہ بھی حلق سے نہیں اْتارتے،

003.jpg

لہذا اب ماؤں نے بھی اْن کے رونے دھونے کا علاج اور گھر داری کے کام کاج سے احسن طریقے کے ساتھ نبردآزما ہونے کے لئے اِسی بہترین حل کا ہی انتخاب کیا ہوا ہے مگر پھر بھی فون کی سکرین کی تیز روشنی سے اْن کی آنکھوں کی بینائی متاثر ہونے کا اندیشہ ہر آن برقرار ہے کیونکہ وہ بڑی ڈھٹائی اور اہتمام کے ساتھ روزانہ کارٹون دیکھنے اور گیمز کھیلنے سے بالکل نہیں چوْکتے، اِس خطرناک ماحول میں پرورش پانے والوں نے کل کو سکولوں میں بھی داخلہ لینا ہے اِس لئے والدین کا فرض بنتا ہے کہ وہ بچوں کے بہتر مستقبل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اْنہیں اِن نا موافق حالات سے نکالیں اور اْن کی توجہ آہستہ آہستہ موبائل فون سے ہٹا کر حتی الامکان پڑھنے لکھنے کی جانب راغب
کرنے کی کوشش کریں تا کہ آئندہ انہیں صحت کے ساتھ ساتھ تعلیم کے میدان میں بھی کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

002.jpg
امید ہے آپ کو یہ تحریر پسندآئے گی۔ دوبارہ انشاء اللہ اآپ کی خدمت میں ھاضر ہوں گا


Comments 5


بالکل اپ نے ٹھیک کہا ہے

18.11.2021 13:14
0

شکریہ بھائی

18.11.2021 13:33
0

آپ نے موبائل کے حوالے سے بہت زبردست آ رٹیکل لکھا ہے

18.11.2021 16:47
0

شکریہ بھائی

19.11.2021 04:20
0

Congratulations...!!! Your Post Selected Got Upvote %
By: Urdu Community

Join Discord Group Urdu-Community
Join Whatapps Group :Urdu Community
Join our Facebook Group Facebook Urdu community

image.png
***Subscribe URDU COMMUNITY***

[Quick Delegation Links]()

50SP 100SP 150SP 200SP 500SP 1000SP 1500SP 2000SP

image.png
***Subscribe URDU COMMUNITY***
Our mission to promote Steemit in Urdu Community to all over the world
Stay together
Join the Urdu Community with more confidence.
Steem On

20.11.2021 14:34
0