Nazam pakoda


پکوڑا, [03.08.19 20:26]
💫نظم💫

محبتوں میں ہر ایک لمحہ وصال ہوگا یہ طے ہوا تھا
بچھڑ کے بھی ایک دوسرے کا خیال ہوگا یہ طے ہوا تھا

بچھڑ گۓ ہیں تو کیا ہوا کہ یہی تو دستور زندگی ہے
جدائیوں میں نہ قربتوں کا ملال ہوگا یہ طے ہوا تھا

وہی ہوا ہے نا بدلتے موسم میں تم نے ہم کو بھلا دیا ہے
کوئی بھی رت ہو، نہ چاہتوں کو زوال ہو گا یہ طے ہوا تھا

یہ کیا کہ سانسیں اکھڑ رہی ہیں سفر کے آغاز ہی میں یاروں
کوئی بھی تھک کر نہ راستے میں نڈھال ہوگا یہ طے ہوا تھا

چلو کہ فیضان کشتیوں کو جلا دے گمنام ساحلوں پر
کہ اب یہاں سے نہ واپسی کا سوال ہوگا یہ طے ہوا تھا


Comments 0